Posts
Showing posts from April, 2020
حضرت بہلول ایک بازار سے گزرے تو ایک حلوائی
- Get link
- X
- Other Apps
حضرت بہلول ایک بازار سے گزرے تو ایک حلوائی صبح صبح دودھ بیچ رہا تھا حضرت بہلاول اس کے پاس گئے تو اس حلوائی نے دودھ کا کلاس مفت میں حضرت بہلول کو پیش کیا ۔حضرت بہلول نے دودھ پیا اور اسے دعا دے کر آگے چل دیے ۔ ایک فحاشہ عورت بازار میں اپنے دوست معشوق کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کے موسم کا لطف لیے رہی تھی ہلکی ہلکی بارش بھی ہورہی تھی سانول کی رت لگی ہوئی تھی وہ سیڑھیوں پر بیٹھے موسم کا لطف لے رہے تھے کہ اچانک حضرت بہلول اپنی موج مستی میں بغیر ان کو دیکھے نگاہیں نیچی کیے ہوئے جا رہے تھے حضرت بہلول کی لکڑی جو ان کے ہاتھ میں ہمیشہ ہوتی تھی اس لکڑی کا کھچڑ کبھی دائیں گرتا کبھی بائیں گرتا ۔جب حضرت بہلول اس فحاشہ عورت کے قریب سے گزرے تو آپ کی لکڑی سے کھچڑ اوپر اچھلا اور اس عورت کے لباس پر گرگیا ۔اس کے پاس بیٹھا ہوا اس کا عاشق اسے بڑا غصہ آیا ۔اٹھا اور آتے ہی حضرت بہلول کے چہرے پر تھپڑ مارا ۔کہنے لگا فقیر بنے پھرتے ہو چلنے کی تمیز نہیں قمیتی لباس ضائع کردیا۔ آل محمد کے دیوانے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگے یا اللہ تو بڑا بے نیاز ہے کہی سے دودھ پلاتا ہے اور کہی سے تھپڑ مرو...
محبت سے نفرت تک"
- Get link
- X
- Other Apps
محبت سے نفرت تک"👈 علی میری آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے کل بات کریں؟ ہاں ٹھیک ہے میں بھی سوتا ہوں بس کچھ وقت تک۔۔۔۔ ہممم۔۔۔۔۔ چلو پھر میں کال کٹ کرتی ہوں۔ ہاں کر دو ۔۔۔۔۔۔۔اور سنو پری، ہاں ؟؟ اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔ ھممم ok ۔۔۔۔اللہ حافظ ۔۔۔ اللہ حافظ 😊 ۔ ....رات کے 11 بجے ہم دونوں میں اتنی بات ہوئی اور کال کٹ۔۔۔ کچھ دیر موبائل گیم میں مصروف رہا اور سوگیا۔۔۔۔۔ کچھ پل گزرا آنکھ کھلی شاید 2 بجے کا ٹائم تھا۔۔۔ ناجانے کیسے اسکا نمبر ملا دیا۔۔۔۔ لیکن یہ کیا؟ ؟؟ اسکا نمبر ویٹینگ پر تھا۔ وہ جو تھوڑی سی نیند تھی آنکھ میں دل کی تیز دھڑکن سے دور ہو گئی۔۔۔۔ 5منٹ بعد کال کٹ ہوئی اور مجھے کال آئی۔۔ اس کی (چھوٹی کزن) تھی۔ اور کہنے لگی کہ " علی موبائل میرے پاس ہے وو سو رہی ہے۔ آواز سے لگ رہا تھا جیسے خود سو کر اٹھی ہو پر کیا کریں شک کی عادت نہیں۔۔ "محبت میں یقین بھی ظلم ہے ھم اعتبار کرتے ہیں ،وہ رات بھر کہیں اور ہوتے ہیں۔۔" رات لمحہ میں گزرجاتی تھی پر آج ہر لمحہ کاٹ رہی تھی۔۔ صبح کو میں نے کال کا انتظار کیا لیکن آج شاید میسج کا بھی اسکا ...
ایک مصری کا سچا واقعہ ہے
- Get link
- X
- Other Apps
یہ ایک مصری کا سچا واقعہ ہے جس کو۲۰ سال سے حج کی سعادت نصیب ہورہی تھی تو اس پوچھا الله کو اپٓکا کون سا عمل پسند آیا ہے جو وہ ہر سال آپکو بلاتا ہے تو اس نے کہا مجھے تو اپنے اندر ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی ہے مگر یہ ایک دعا کی وجہ سے اسنے کہا جب میں پہلے حج کو گیا تو عرفات کی طرف جاتے ہوئے میں بس میں تھا اور بس آہستہ چل رہی تھی میں کھڑکی سے باہر نے مناظر دیکھ رہا تھا میں نے دیکھا ایک بوڑھی عورت جو بہت فربہ بھی تھی بہت تکلیف اور اذیت سے چل رہی اس کے چہرے سے تکلیف عیاں تھی میں نے دل میں سوچا میں جوان آدمی ہوں میں چل سکتا تو کیوں نہ اس کو اپنی سیٹ پر بیٹھا دوں یہ سوچ کر میں نے بس والے سے رکنے کو کہا۔ اور نیچے اتر کر اس عورت کے پاس گیا اور بولا یا اممی میں چاہتا ہوں تم میری جگہ بس۔ میں سفر کرو اور میں تمھاری جگہ پیدل سفر کروں گا یہ سن کر وہ عورت بہت خوش ہوی اور بس میں سوار ہونے لگی اور آنسو بھر انکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا اے میرے بیٹے میں نے رب سے دعا کی ہے الله تجھ کو ہر سال حج کراے شاید وہ وقت قبولیت کا تھا اگلے سال میری کمپنی نے مجھے اپنے خرچے پر حج پر بھیجا اور پھر کوی نہ کوی میرے لی...