حضرت بہلول ایک بازار سے گزرے تو ایک حلوائی




حضرت بہلول ایک بازار سے گزرے تو ایک حلوائی صبح صبح دودھ بیچ رہا تھا حضرت بہلاول اس کے پاس گئے تو اس حلوائی نے دودھ کا کلاس مفت میں حضرت بہلول کو پیش کیا ۔حضرت بہلول نے دودھ پیا اور اسے دعا دے کر آگے چل دیے ۔
ایک فحاشہ عورت بازار میں  اپنے دوست معشوق کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کے موسم کا لطف لیے رہی تھی ہلکی ہلکی بارش بھی ہورہی تھی سانول کی رت لگی ہوئی تھی وہ سیڑھیوں پر بیٹھے موسم کا لطف لے رہے تھے کہ اچانک حضرت بہلول اپنی موج مستی میں بغیر ان کو دیکھے نگاہیں نیچی کیے ہوئے جا رہے تھے حضرت بہلول کی لکڑی جو ان کے ہاتھ میں ہمیشہ ہوتی تھی اس لکڑی کا کھچڑ کبھی دائیں گرتا کبھی بائیں گرتا ۔جب حضرت بہلول اس فحاشہ عورت کے قریب سے گزرے تو آپ کی لکڑی سے کھچڑ اوپر اچھلا اور اس عورت کے لباس پر گرگیا ۔اس کے پاس بیٹھا ہوا اس کا عاشق اسے بڑا غصہ آیا ۔اٹھا اور آتے ہی حضرت بہلول کے چہرے پر تھپڑ مارا ۔کہنے لگا فقیر بنے پھرتے ہو چلنے کی تمیز نہیں قمیتی لباس ضائع کردیا۔ 
آل محمد کے دیوانے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگے یا اللہ تو بڑا بے نیاز ہے کہی سے دودھ پلاتا ہے اور کہی سے تھپڑ مرواتا ہے.یہ کہہ کر حضرت بہلول دانا آگے چلے گئے ۔جب وہ فحاشہ عورت چھت پر جانے لگی تو اس کا پاوں پھسلا گیا سیڑھیوں سے اور سر کے بل زمین پر گرگئی اور ایسی دردِ ناک چوٹ آئی کہ فوراً مرگئی ۔شور مچ گیا کہ حضرت بہلول دانا نے بددعا دی تھی آسمان کی طرف منہ کرکے ۔ حضرت بہلول ابھی بازار کے دوسری طرف نہیں پہنچے تھے کہ لوگوں نے حضرت بہلول کو پکڑ کر کہا فقیر بنے پھرتے ہو ۔ حوصلہ بھی نہیں رکھتے ہو ۔ 
حضرت بہلول دانا نے فرمایا کیا ہوا میاں ۔
لوگوں نے کہا تم نے اس فحاشہ عورت کو بددعا دی ہے اس کی جان چلی گئی ہے ۔
حضرت بہلول نے فرمایا واللہ اعلم میں نے کوئی بددعا نہیں دی ۔
لوگوں نے ضدِ کی کہ تم نے ہی بددعا دی ہے ۔ کہ تونے ہی اس کی جان لی ہے ۔ جب لوگوں نے بہت زیادہ ضد کی ۔حضرت بہلول دانا نے فرمایا اے لوگوں اگر سچی بات پوچھتے ہو نا تو سنو ۔میں نے بددعا کوئی نہیں دی ۔یہ اصل میں یارو یارو کی لڑائی ہے ۔ لوگوں نے کہا وہ کیا ؟ حضرت بہلول نے فرمایا ۔جب میں گزر رہا تھا میری لکڑی سے کھچڑ  اڑا اور اس عورت کے لباس پر گرگیا تو اس کے عاشق یار کو مجھ پر غصہ آیا تو اس نے مجھے مارا تو جب اس نے مجھے مارا تو میرے دوست کو بھی غصہ آیا تو میرے دوست نے اس عورت کو مارا ۔
سبحان اللہ ۔ پوسٹ کیسی لگی رائے دیں اور شیئر کریں ۔





copyright iamibrahim@outlook.my


Comments

Popular posts from this blog

ایک مصری کا سچا واقعہ ہے